23/05/2026
موسیٰ کا مصلیٰ پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ میں واقع ایک معروف پہاڑی چوٹی ہے۔ یہ سرن ویلی کے خوبصورت گاؤں میں ہے، جو اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی کی نمائندگی کرتا ہے۔ موسیٰ کا مصلیٰ تقریباً 4,100 میٹر سطح سمندر سے بلند ہے، جس کی وجہ سے یہ مانسہرہ کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بلندیاں اور دشوار گزار راستے ایک منفرد چیلنج فراہم کرتے ہیں۔
اس کے راستے میں گھنے جنگلات، برفیلے مناظر اور بلند پہاڑی سلسلے آتے ہیں۔ منڈہ گچھہ اس پہاڑ کا اہم نقطہ آغاز ہے، جہاں سے اس کی چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ چڑھائی کی طوالت اور سختی کے باوجود، یہاں کا منظر دل کو بے حد سکون دیتا ہے۔
موسیٰ کا مصلیٰ کی چڑھائی کی ابتدا چھوٹے پہاڑی گاؤں سے ہوتی ہے، جہاں مقامی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ان گاؤں والوں کی مہمان نوازی اور ان کے ثقافتی رنگ بھی اس سفر کا حصہ بنتے ہیں۔ راستے میں دریا کے کنارے سے گزرتے ہوئے مختلف نوع کے درخت اور جڑی بوٹیاں نظر آتی ہیں۔
مُصلہ کی چوٹی تک پہنچتے پہنچتے آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ فطرت کے ایک بے نظیر منظر کا حصہ بن چکے ہیں۔ اوپر پہنچ کر، پورے سرن ویلی کا نظارہ انتہائی دلکش ہوتا ہے، جہاں آپ نیچے کی طرف پھیلے ہوئے سبز میدانوں، درختوں اور برفانی پہاڑوں کو دیکھ سکتے ہیں۔مانسہرہ سے موٹروے کے ذریعے صرف 20 منٹ کے فاصلے پر شنکیاری کا دلکش شہر آتا ہے، جو اپنے منفرد ذائقے دار کبابوں کی وجہ سے پاکستان بھر میں مشہور ہے۔
شنکیاری سے مین شاہراہ پر محض تین سے پانچ منٹ سفر کرنے کے بعد دائیں جانب ایک لنک روڈ نکلتی ہے۔ یہی راستہ سیاحوں کو فطرت کے حسین شاہکار، سرن ویلی کی جانب لے جاتا ہے۔ اس سڑک پر سفر کرتے ہی سرن ویلی کی سرحد میں داخلہ ہوتا ہے۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد، قدرت کا جادو شروع ہو جاتا ہے—روڈ کے بائیں جانب ایک کے بعد ایک خوبصورت جھیل کا سلسلہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے شاہ زیب جھیل، پھر اُس کے فوراً بعد سم جھیل کا منظر دل کو چھو جاتا ہے۔
اور بالآخر، سرن ویلی کی سب سے بڑی اور آخری جھیل ’’ڈاڈر‘‘ سامنے آتی ہے، جو نہ صرف جھیل بلکہ اپنے دلکش، سرسبز مناظر، کھلے میدانوں، اور خوش اخلاق باسیوں کی وجہ سے سیاحوں کے دل میں گھر کر لیتی ہے۔
یہیں سے سفر مزید خوبصورت ہو جاتا ہے۔ تقریباً دو گھنٹے کے اندر، آپ جبوڑی، سچاں، اور بالآخر نواز آباد پہنچ جاتے ہیں۔
نواز آباد سے اگر بائیں طرف مڑیں تو جبڑ دیولی اور مونڈی جیسے مقامات اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں۔
اور اگر دائیں طرف کا راستہ اختیار کریں تو صرف بارہ منٹ کی مسافت پر "منڈاگچھہ" جیسی جنت نظیر وادی آپ کی منتظر ہوتی ہے۔
منڈاگچھہ میں دریا کنارے سادہ مگر صاف ستھرے گیسٹ ہاؤسز اور کیمپنگ کی شاندار جگہیں موجود ہیں۔ یہاں کے قدرتی چشموں کا ٹھنڈا اور میٹھا پانی، ندی نالوں کی خنکی، اور فضاؤں میں بسی ہوئی خاموش موسیقی آپ کے وجود کو تازگی سے بھر دیتی ہے۔
یہاں سرسبز پہاڑ، بلند و بالا ڈبل آبشاریں، اور وادی کے بیچوں بیچ بہتا دریا سرن، اپنی روانی میں چٹانوں سے ٹکراتا، گاتا، مچلتا ہوا منظر پیش کرتا ہے جو ہر آنکھ کو مسحور کر دیتا ہے۔
اس پوری سیر کا حسن یہ ہے کہ اگر آپ اسلام آباد یا راولپنڈی سے صبح سویرے نکلیں تو رات گئے واپسی ممکن ہے۔
لیکن اگر ایک رات منڈاگچھہ میں گزار لی جائے، تو صبح کی سحر انگیز چہل قدمی اور چشمے کا تازہ پانی اس ٹرپ کو یادگار بنا دیتا ہے۔
اور اگر آپ کے پاس وقت کی کوئی قید نہیں، تو بس "الحمدللہ" کہیے، کیونکہ اب قدرت آپ کو اپنے شاہکاروں سے روشناس کروانے جا رہی ہے۔
سامنے کوہِ موسیٰ کا سلسلہ پھیلتا ہے—4080 میٹر بلند "مصلا" اور 4320 میٹر بلند "چرکو پیک"، جنہیں سر کرنے کے لیے ملک بھر سے کوہ پیما یہاں آتے ہیں۔
یہ سب کچھ ہی نہیں، آگے قدرت کے اور بھی کئی خزانے آپ کے منتظر ہیں:
کشادہ سرسبز میدان، آسمان کو چُھوتے دیو قامت دیودار، پہاڑوں میں ابلتے چشمے، برفانی تودے، چمکتے گلیشیئر اور نہ ختم ہونے والی خوبصورتی۔۔۔
ہر منظر کچھ نیا سکھاتا ہے، کچھ نیا دکھاتا ہے، اور آپ کو فطرت سے قریب تر کر دیتا ہے۔
موسیٰ کا مصلیٰ کی چڑھائی کو مکمل کرنا ایک مشکل اور محنت طلب کام ہے، لیکن اس کی کامیابی ایک اطمینان بخش احساس فراہم کرتی ہے۔ یہاں کی ہوا اور منظر آپ کو زندگی کے سادہ اور خوبصورت پہلوؤں سے دوبارہ متعارف کراتے ہیں۔ یہ مقام ان لوگوں کے لئے بہترین ہے جو فطرت سے محبت رکھتے ہیں اور پہاڑی چڑھائیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔