Raja Photography

Raja Photography The mountains are a place where I have always been able to escape from all the stresses.

کیسے ظالم لوگ ہیں یار، خود ہی اپنے ماحول کے دشمن بنے ہوئے ہیں، اور ستم تو یہ ہے کہ جو محمکے ان کی حفاظت کے نام پہ خزانے ...
23/05/2026

کیسے ظالم لوگ ہیں یار، خود ہی اپنے ماحول کے دشمن بنے ہوئے ہیں، اور ستم تو یہ ہے کہ جو محمکے ان کی حفاظت کے نام پہ خزانے سے اربوں روپے لیتے ہیں وہی ملوث پائے جاتے ہیں 💔

موسیٰ کا مصلیٰ پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ میں واقع ایک معروف پہاڑی چوٹی ہے۔ یہ سرن ویلی کے خوبصورت گاؤں می...
23/05/2026

موسیٰ کا مصلیٰ پاکستان کے خیبر پختونخواہ کے ضلع مانسہرہ میں واقع ایک معروف پہاڑی چوٹی ہے۔ یہ سرن ویلی کے خوبصورت گاؤں میں ہے، جو اس علاقے کی قدرتی خوبصورتی کی نمائندگی کرتا ہے۔ موسیٰ کا مصلیٰ تقریباً 4,100 میٹر سطح سمندر سے بلند ہے، جس کی وجہ سے یہ مانسہرہ کی بلند ترین چوٹیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بلندیاں اور دشوار گزار راستے ایک منفرد چیلنج فراہم کرتے ہیں۔

اس کے راستے میں گھنے جنگلات، برفیلے مناظر اور بلند پہاڑی سلسلے آتے ہیں۔ منڈہ گچھہ اس پہاڑ کا اہم نقطہ آغاز ہے، جہاں سے اس کی چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ چڑھائی کی طوالت اور سختی کے باوجود، یہاں کا منظر دل کو بے حد سکون دیتا ہے۔

موسیٰ کا مصلیٰ کی چڑھائی کی ابتدا چھوٹے پہاڑی گاؤں سے ہوتی ہے، جہاں مقامی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ ان گاؤں والوں کی مہمان نوازی اور ان کے ثقافتی رنگ بھی اس سفر کا حصہ بنتے ہیں۔ راستے میں دریا کے کنارے سے گزرتے ہوئے مختلف نوع کے درخت اور جڑی بوٹیاں نظر آتی ہیں۔

مُصلہ کی چوٹی تک پہنچتے پہنچتے آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ آپ فطرت کے ایک بے نظیر منظر کا حصہ بن چکے ہیں۔ اوپر پہنچ کر، پورے سرن ویلی کا نظارہ انتہائی دلکش ہوتا ہے، جہاں آپ نیچے کی طرف پھیلے ہوئے سبز میدانوں، درختوں اور برفانی پہاڑوں کو دیکھ سکتے ہیں۔مانسہرہ سے موٹروے کے ذریعے صرف 20 منٹ کے فاصلے پر شنکیاری کا دلکش شہر آتا ہے، جو اپنے منفرد ذائقے دار کبابوں کی وجہ سے پاکستان بھر میں مشہور ہے۔

شنکیاری سے مین شاہراہ پر محض تین سے پانچ منٹ سفر کرنے کے بعد دائیں جانب ایک لنک روڈ نکلتی ہے۔ یہی راستہ سیاحوں کو فطرت کے حسین شاہکار، سرن ویلی کی جانب لے جاتا ہے۔ اس سڑک پر سفر کرتے ہی سرن ویلی کی سرحد میں داخلہ ہوتا ہے۔

ٹھیک پندرہ منٹ بعد، قدرت کا جادو شروع ہو جاتا ہے—روڈ کے بائیں جانب ایک کے بعد ایک خوبصورت جھیل کا سلسلہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتا ہے۔
سب سے پہلے شاہ زیب جھیل، پھر اُس کے فوراً بعد سم جھیل کا منظر دل کو چھو جاتا ہے۔
اور بالآخر، سرن ویلی کی سب سے بڑی اور آخری جھیل ’’ڈاڈر‘‘ سامنے آتی ہے، جو نہ صرف جھیل بلکہ اپنے دلکش، سرسبز مناظر، کھلے میدانوں، اور خوش اخلاق باسیوں کی وجہ سے سیاحوں کے دل میں گھر کر لیتی ہے۔

یہیں سے سفر مزید خوبصورت ہو جاتا ہے۔ تقریباً دو گھنٹے کے اندر، آپ جبوڑی، سچاں، اور بالآخر نواز آباد پہنچ جاتے ہیں۔
نواز آباد سے اگر بائیں طرف مڑیں تو جبڑ دیولی اور مونڈی جیسے مقامات اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ خوش آمدید کہتے ہیں۔
اور اگر دائیں طرف کا راستہ اختیار کریں تو صرف بارہ منٹ کی مسافت پر "منڈاگچھہ" جیسی جنت نظیر وادی آپ کی منتظر ہوتی ہے۔

منڈاگچھہ میں دریا کنارے سادہ مگر صاف ستھرے گیسٹ ہاؤسز اور کیمپنگ کی شاندار جگہیں موجود ہیں۔ یہاں کے قدرتی چشموں کا ٹھنڈا اور میٹھا پانی، ندی نالوں کی خنکی، اور فضاؤں میں بسی ہوئی خاموش موسیقی آپ کے وجود کو تازگی سے بھر دیتی ہے۔

یہاں سرسبز پہاڑ، بلند و بالا ڈبل آبشاریں، اور وادی کے بیچوں بیچ بہتا دریا سرن، اپنی روانی میں چٹانوں سے ٹکراتا، گاتا، مچلتا ہوا منظر پیش کرتا ہے جو ہر آنکھ کو مسحور کر دیتا ہے۔

اس پوری سیر کا حسن یہ ہے کہ اگر آپ اسلام آباد یا راولپنڈی سے صبح سویرے نکلیں تو رات گئے واپسی ممکن ہے۔
لیکن اگر ایک رات منڈاگچھہ میں گزار لی جائے، تو صبح کی سحر انگیز چہل قدمی اور چشمے کا تازہ پانی اس ٹرپ کو یادگار بنا دیتا ہے۔

اور اگر آپ کے پاس وقت کی کوئی قید نہیں، تو بس "الحمدللہ" کہیے، کیونکہ اب قدرت آپ کو اپنے شاہکاروں سے روشناس کروانے جا رہی ہے۔

سامنے کوہِ موسیٰ کا سلسلہ پھیلتا ہے—4080 میٹر بلند "مصلا" اور 4320 میٹر بلند "چرکو پیک"، جنہیں سر کرنے کے لیے ملک بھر سے کوہ پیما یہاں آتے ہیں۔

یہ سب کچھ ہی نہیں، آگے قدرت کے اور بھی کئی خزانے آپ کے منتظر ہیں:
کشادہ سرسبز میدان، آسمان کو چُھوتے دیو قامت دیودار، پہاڑوں میں ابلتے چشمے، برفانی تودے، چمکتے گلیشیئر اور نہ ختم ہونے والی خوبصورتی۔۔۔
ہر منظر کچھ نیا سکھاتا ہے، کچھ نیا دکھاتا ہے، اور آپ کو فطرت سے قریب تر کر دیتا ہے۔

موسیٰ کا مصلیٰ کی چڑھائی کو مکمل کرنا ایک مشکل اور محنت طلب کام ہے، لیکن اس کی کامیابی ایک اطمینان بخش احساس فراہم کرتی ہے۔ یہاں کی ہوا اور منظر آپ کو زندگی کے سادہ اور خوبصورت پہلوؤں سے دوبارہ متعارف کراتے ہیں۔ یہ مقام ان لوگوں کے لئے بہترین ہے جو فطرت سے محبت رکھتے ہیں اور پہاڑی چڑھائیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بٹہ کنڈی، جو کبھی وادی کاغان کا ایک پرسکون اور خاموش گاؤں ہوا کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت سیاحتی مقام میں تبد...
20/05/2026

بٹہ کنڈی، جو کبھی وادی کاغان کا ایک پرسکون اور خاموش گاؤں ہوا کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت سیاحتی مقام میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پہلے یہاں صرف قدرتی حسن، بہتے چشمے، اور سرسبز پہاڑ دکھائی دیتے تھے، لیکن اب جدید ہوٹل، ریسٹورینٹس، اور سہولیات سے مزین بازار اس کی پہچان بن چکے ہیں۔

جہاں کبھی سناٹا ہوتا تھا، اب وہاں سیاحوں کی چہل پہل ہے۔ ترقی نے بٹہ کنڈی کو سہولت دی ہے، مگر ساتھ ہی قدرتی خاموشی اور سادگی میں کمی بھی لائی ہے۔ یہ تبدیلی وقت کا تقاضا ہے، مگر امید ہے کہ فطری حسن کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا۔

تصویر کریڈٹ ؛ زہیر مغل

پاک چائنہ سی پیک ٹو منصوبہ مانسہرہ سے چلاس ۲۳۵ کلو میٹرز موٹروےمانسہرہ سے چلاس موجودہ  آٹھ سے دس گھنٹے سفر اس موٹروے کے ...
20/05/2026

پاک چائنہ سی پیک ٹو منصوبہ
مانسہرہ سے چلاس ۲۳۵ کلو میٹرز موٹروے
مانسہرہ سے چلاس موجودہ آٹھ سے دس گھنٹے سفر اس موٹروے کے بننے کے بعد یہ سفر تین گھنٹے کا رہ جائے گا
راولپنڈی سے گلگت تیرہ سے پندرہ گھنٹوں کا سفر تو اس سڑک کی کے بعد صرف آٹھ سے نو گھنٹوں میں گلگت انشا؀اللہ
ایسے سمجھ لیں کہ راولپنڈی سے جلکھڑ یا بیسل جتنی دیر میں پہنچتے ہیں اس سڑک سے آپ اتنے ہی وقت میں راولپنڈی سے گلگت پہنچ جایا کریں گے

پچھلے سال سیاحتی سیزن کے دوران ہونے والے حادثات کا ایک جائزہ1- 3 مئیلوئر کوہستان میں آلٹو گاڑی میں راولپنڈی کی ایک فیملی...
19/05/2026

پچھلے سال سیاحتی سیزن کے دوران ہونے والے حادثات کا ایک جائزہ

1- 3 مئی
لوئر کوہستان میں آلٹو گاڑی میں راولپنڈی کی ایک فیملی کے آٹھ افراد گاڑی گہری کھائی میں گرنے کی وجہ سے جان بحق ہوئے۔

ممکنہ وجہ: گنجائش سے زیادہ مسافر، پہاڑوں کے سفر سے ناواقفیت

2- 15 مئی سے 16 مئی
گلگت بلتستان میں گجرات کے چار دوست اپنی گاڑی سمیت لاپتہ ہوئے جن کی لاشیں اور گاڑی تقریبا دس دن کی تلاش کے بعد جگلوٹ سکردو روڈ پر ایک گہری کھائی میں دریا کے ساتھ ملیں.

ممکنہ وجہ: تھکاوٹ و نیند اور رات کی پہاڑی لانگ ڈرائیو

3- 28 مئی
مارتونگ وادی (بونیر) میں لاہور کی ایک فیملی ماں جوان بیٹوں سمیت گاڑی گہری کھائی میں گرنے سے جاں بحق۔

ممکنہ وجہ: پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ سے ناواقفیت

4- 20 جون

لاہور سے ایک فیملی باپ بیٹا اور کزن ناران بٹہ کنڈی سوہنی آبشار کے گلشئیر کے نیچے تصویریں بنانے کی غرض سے کھڑے تھے کہ اچانک گلشئیر گر کے دبنے سے تینوں ہلاک ہو گئے۔

5- 21 جون

کالام، اتروڑ شاہی باغ میں کشتی رانی کرتے ہوئے کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے دس افراد ڈوب گئے جن میں پانچ کو زندہ بچا لیا گیا جبکہ پانچ (دو خواتین اور تین بچوں) کو زندہ نہ بچایا جاسکا۔

ممکنہ وجہ: کشتی کا انجن فیل ہو گیا۔ لائف جیکٹ کسی نے بھی نہیں پہنی تھی اور کشتی پانی کے تیز بہاؤ کا شکار ہو گئی۔

6- 24 جون

کاغان میں ایک گاڑی دریا کنارے گہری کھائی میں جا گری۔ میاں بیوی جاں بحق، چھوٹا بچہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا۔

ممکنہ وجہ: رات کی ڈرائیو، تھکاوٹ و نیند، راستے سے ناواقفیت

7- 27 جون

مینگورہ دریا سوات کے سیلابی ریلے میں 16 افراد بہہ گئيے۔ دس افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ تین افراد کو زندہ بچایا جا سکا ہے۔

ممکنہ وجہ: غیر مقامیوں کا دریا میں آنے والے سیلابی ریلے کا اندازہ نہ کرسکنا اور کسی پیشگی وارننگ سسٹم کا نہ ہونا۔

آپ کو یاد ہوگا، ایسے ہی پچھلے سیاحتی سیزن میں صرف نیلم ویلی میں لگ بھگ 6 حادثات ہوئے تھے، مسافر وینز دریا میں جا گری تھیں جن میں درجنوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

ان حادثات کی وجہ بھی تھکاوٹ/ ڈرائیورز سے لگاتار ڈرائیونگ کروانا تھا۔

📢 سیاحوں کے لیئے چند گزاشات!

سیاحت خوبصورت ہے، سیاحت میں دلکشی ہے، سياحت سکون ہے، لیکن احتیاط زندگی ہے۔ پاکستان کے دلکش پہاڑ، جھیلیں اور وادیاں جتنی خوبصورت ہیں، اتنی ہی خطرناک بھی ہو سکتی ہیں اگر احتیاط نہ کی جائے۔

براہِ کرم ان باتوں کا خاص خیال رکھیں:

🏔️ جن لوگوں کا پہاڑوں میں گاڑی چلانے کا تجربہ نہیں ہے وہ شروع میں نزدیکی سیاحتی مقامات جن میں نسبتا کم ڈرائیونگ کرنی پڑتی ہے، وہاں سے سٹارٹ لیں۔

🚖 اگر ڈرائیور ساتھ لے کر جا رہے ہوں تو تسلی کر لیں کہ اسے پہاڑوں میں گاڑی چلانے کا تجربہ بھی ہے؟ اور دوران سفر اس کے آرام کا بھی خیال رکھیں۔

🏞️ کوشش کریں رات کو نیند پوری کریں اور دن کے وقت سفر کریں تاکہ راستوں میں رک کر نظاروں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔

🏨 جانے سے پہلے پوری معلومات لے کر اپنا روٹ فائنل کریں، جن جن مقامات پر رات سٹے آئیں گے وہاں وہاں پر ہوٹلوں کی ایڈوانس بکنگ کروائیں۔ سفر کو انجوائے کریں، اسے عجلت میں مکمل کرنے کی کوشش نہ کریں۔

📵 دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ہرگز نہ کریں۔

🛣 یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ صرف سڑکوں پر گاڑیاں چلانا ہی سیاحت نہیں ہے (یہ محض روڑ ٹرپ ہے)، 🏜️ جتنے خوبصورت نظارے ہیں وہ عام راستوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں جن کے لیئے پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اپنے بچوں/ گھر والوں کو چلنے کا عادی بنائیں 🦯، ایک سیزن میں صرف ایک ہی پوائنٹ وزٹ کریں، جہاں بھی جائیں ایک ہی جگہ رہ کر 🎪 اس مقام کے گردونواح میں پائے جانے والے تمام چھوٹے بڑے تفریحی مقامات کو ایک ایک کرکے وزٹ کریں۔🚶‍♂️

🌧️ موسم کی صورتحال جانچ کر سفر کریں۔

🚗 گاڑی کی مکمل جانچ کروائیں، خاص طور پر بریک اور ٹائر۔

⛔ خطرناک جگہوں پر سیلفی یا ویڈیوز نہ بنائیں۔

🏞️ پانی، دریا، جھیل یا پہاڑوں میں حد سے زیادہ رسک نہ لیں۔

🚫 سڑکوں پر اوور اسپیڈنگ اور غیر ضروری ریس سے گریز کریں۔

👨‍👩‍👧‍👦 بچوں کا خاص خیال رکھیں، انہیں اکیلا نہ چھوڑیں۔

🗑️ صفائی کا خیال رکھیں، اپنے پیچھے کچرا نہ چھوڑیں۔

👉 یاد رکھیں! خوبصورت سفر تبھی یادگار ہوتا ہے جب ہم خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔ اپنی جان اور اپنے پیاروں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیئے

وادی چوڑ - ایشیا کی سب سے بڑی چراگاہ
19/05/2026

وادی چوڑ - ایشیا کی سب سے بڑی چراگاہ

پانی کا سیاہ دریا بےچین لہریں بناتا ہوا گزرتا ہے، جبکہ اوپر پہاڑ صدیوں پرانی خاموشی اوڑھے کھڑے ہیں۔  دور سے دیکھا جائے ت...
18/05/2026

پانی کا سیاہ دریا بےچین لہریں بناتا ہوا گزرتا ہے، جبکہ اوپر پہاڑ صدیوں پرانی خاموشی اوڑھے کھڑے ہیں۔ دور سے دیکھا جائے تو یہ صرف ایک سڑک نہیں لگتی، بلکہ انسان کی ہمت اور فطرت کی شدت کے درمیان ایک نازک سا معاہدہ محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹی سی سفید گاڑی اس وسیع اور سنگلاخ دنیا میں یوں دکھائی دیتی ہے جیسے وقت کے سمندر میں کوئی ایک لمحہ۔ پہاڑوں کے رنگ بھی عجیب داستان سناتے ہیں۔ کہیں مٹی سنہری محسوس ہوتی ہے، کہیں چٹانیں راکھ جیسی مدھم، اور کہیں گہری لکیریں زمین کے پرانے زخموں کی یاد دلاتی ہیں۔ سورج کی روشنی جب ان چٹانوں پر پڑتی ہے تو ہر دراڑ، ہر سایہ اور ہر سطح اپنی الگ پہچان بنا لیتی ہے۔ یہ تصویر صرف ایک منظر نہیں، بلکہ خاموش راستوں، تنہا سفروں اور قدرت کے بےپناہ جلال کی ایک زندہ کہانی ہے

ستارۂ امتیاز کی حالیہ تقسیم میں حدیقہ کیانی کا انتخاب واقعی خوش آئند لگا۔ ان کا فن، محنت اور پاکستان کے لیے خدمات اپنی ...
17/05/2026

ستارۂ امتیاز کی حالیہ تقسیم میں حدیقہ کیانی کا انتخاب واقعی خوش آئند لگا۔ ان کا فن، محنت اور پاکستان کے لیے خدمات اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں۔ البتہ کچھ اور نام دیکھ کر یہ سوال ذہن میں ضرور آیا کہ آخر وہ کون سا غیر معمولی کام ہے جس نے انہیں اس اعزاز کا حق دار بنایا۔ کہیں نہ کہیں امتیازات کی تقسیم میں ترجیحات اور معیار پر سوال اٹھتے محسوس ہوتے ہیں۔

اگر کبھی ہمیں اختیار ملے کہ کسی ایک شخصیت کو ستارۂ امتیاز کے لیے نامزد کریں، تو بلا جھجھک Waliullah Maroof کا نام دیں گے۔

آج کے دور میں، جہاں لوگ اپنے ہی رشتوں سے بے نیاز ہوتے جا رہے ہیں، وہاں ایک شخص برسوں سے بچھڑے ہوئے لوگوں کو اپنوں سے ملانے کے مشن میں لگا ہوا ہے۔ صرف پوسٹس یا اعلانات نہیں، بلکہ سینکڑوں خاندانوں کی امید، آنسو اور دعائیں اس کام کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ کئی ایسے لوگ جو دہائیوں سے لاپتہ تھے، جن کے بارے میں گھر والوں نے شاید امید بھی چھوڑ دی تھی، وہ دوبارہ اپنے پیاروں سے ملے۔ یہ صرف ایک سوشل سروس نہیں، انسانیت کی خدمت کی ایک نایاب مثال ہے۔

لالا کو فالو کرنے کے بعد احساس ہوا کہ کوشش، توکل، امید اور انسانیت جیسے لفظ صرف کتابی باتیں نہیں ہوتیں، کچھ لوگ واقعی انہیں جیتے ہیں۔ کسی کے چہرے پر برسوں بعد اپنوں سے ملنے کی خوشی دیکھنا شاید کسی بھی بڑے اعزاز سے زیادہ قیمتی لمحہ ہوتا ہے۔

ایسے لوگ معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ شہرت، فن اور سیاست اپنی جگہ، مگر انسانوں کو ان کے بچھڑوں سے ملانا ایک ایسا کام ہے جو دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

شیئر کریں اور اس قومی ہیرو کیلئے قومی ایوارڈ کیلئے ہماری آواز بنیں۔

26/05/2025
24/05/2025

Address

1
Mansehra

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raja Photography posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Hotel

Send a message to Raja Photography:

Share