07/12/2024
مری تحصیل سے ضلع بن گیا اور آبادی 5 لاکھ تک پہنچ گئی مگر بنیادی محرمیوں کا فقدان نہ ہی گیس نہ ہی پانی نہ ہی معیاری ہسپتال و کالج خدا نے اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلی جسے نہ ہو اپنی حالت آپ بدلنے کا
نمبر1️⃣ ضلع مری کا نوٹیفکیشن کے بعد صرف چند افسران کی تعیناتی ہوئی باقی تمام ضلع دفاتر اور تعیناتی بھی فل فور کی جائیں اور ضلع کی حساب سے فنڈز اور روزگار دیے جائیں ساتھ ہی ساتھ قیمتی زمینوں کی خریدوفروخت میں کمپیوٹرائزیشن کا عمل آسان اور سادہ فراہم کیا جائے تاکہ عام دیہاتی بھی سمجھ سکے،
نمبر2️⃣ ضلع مری میں بہترین DhQ ہسپتال جس میں مقامیوں اور سیاحوں کو کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں جیسے سانحہ مری جیسے واقعات میں دور دراز شہروں میں نہ جانا پڑے،
نمبر3️⃣ ضلع مری میں 2 سے 3 سرکاری ٹکنیکل کالج ہونے چاہیے جس میں با آسانی سے پہاڑی علاقے میں غریب کی بچیاں بچے عزت سے تعلیم و ہنر سیکھ کر کسی بھی مشکل وقت میں روزی روٹی کما سکیں،
نمبر4️⃣ سرکاری سطح پر ضلع مری میں سیاحت کو مزید فروغ دینےکے لیے تمام تنگ مارکٹیوں کو کھلا کیا جائے اور بڑے بڑے ہوٹلوں اور پلازوں کے ساتھ پارکنگ لازمی قرار دی جاے،اور ساتھ پبلک واش روم کا ہونا بہت ضروری ہے، اور مزید جنگلات کی حفاظت کے لیے مقامی سطح پر بھرتیاں کی جائیں،
نمبر5️⃣ ضلع مری ایک ہل اور سلائیڈ اور برفباری والا علاقہ ہے،اور ہرسال مون سون اور برفباری میں تباہی ہوتی ہے یا پھر کسی گھر میں آگ لگ جائے تو فائر بریگیڈ کا روڈ سے دور ہونے سے پہنچنا مشکل ہوتا ہے،ایسی گھروں کے لیے ہرسال صوبائی فنڈز مختص ہونا چاہیے،
نمبر6️⃣ ضلع مری میں جتنی بھی سرکاری نوکریاں آئیں ان میں صرف اور صرف مقامی لوگوں کا حق ہونا چاہیے۔تاکہ سال کے 12ماہ سرکاری آفس کھلے رہیں اور مقامی پورا سال اپنے اداروں سے کام لیتے رہیں باہر سے بھرتیاں کیے ہوئے لوگ سردیوں میں دفتر میں نظر ہی نہیں آتے،،
نمبر7️⃣ ضلع مری میں مزید مقامیوں نوجوان کو روزگار کے مواقع زیادہ پیدا کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے کارخانہ اور فیکٹریاں لگائی جائیں جس سے جوانوں کو روزگار ملے اور منشیات چوریاں ڈکیتیوں جیسے جرائم کم ہو سکیں،
نمبر8️⃣ ضلع مری جس طرح مشرف دور میں ہمارے دو ٹول پلازوں اور چیرلفٹ کا ریونیو تحصیل مری میں لگایا جاتا تھا اب مری ضلع بن گیا ہے پھر سے ان محکموں کا فنڈز مقامیوں کی بنیادی سہولیات پر لگایا جائے،، اگر ان تمام مسائل پر ہم اتحاد و اتفاق سے یک جاں ہو جائیں تو ہمارے یہ جائز مطالبہ کوئی بھی حکومت پوری کر سکتی ہے،،